مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علما اور دانشوروں نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ریفرنڈم کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کی رائے کے ذریعے ہی خطے میں امن اور استحکام قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کی مزاحمت کی بھرپور حمایت کریں۔
تفصیلات کے مطابق اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کی اعلیٰ کونسل کے زیر اہتمام "امام شہید امت کے نظریے میں مسئلہ فلسطین کا حل" کے عنوان سے اجلاس تہران کے ہوٹل پارسیان آزادی میں منعقد ہوا، جس میں عالمی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام ڈاکٹر حمید شہریاری، عالمی اہل بیت اسمبلی کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری اور مختلف ممالک کے علما و دانشور شریک ہوئے۔
آیت اللہ محمد حسن اختری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں انتخابات اور ریفرنڈم کا منصوبہ جو امام شہید انقلاب نے پیش کیا تھا، ایک اصولی، منطقی اور قابل قدر تجویز ہے۔ یہ فلسطین کو بچانے اور صہیونی حکومت کے جرائم کے خاتمے کا بہترین راستہ ہے، جس سے مسلم امت میں اتحاد، اتفاق اور امن پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر فلسطین میں یہ منصوبہ نافذ کیا جائے تو اسرائیلی حکومت کو کنارے لگایا جاسکتا ہے اور خطے میں امن و سکون قائم ہو سکتا ہے۔
مسئلہ فلسطین کا حل صرف مزاحمت ہے
رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دفتر برائے حفظ و نشر آثار کے نمائندے حسین محمدی سیرت نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ریفرنڈم کا نظریہ تقریباً چار دہائیوں سے پیش کیا جا رہا ہے اور یہ کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام شہید کے نظریے میں ریفرنڈم کے دو پہلو ہیں، ایک مغربی اور دوسرا مزاحمتی۔ مغربی اور امریکی طریقہ کار میں خامیاں موجود ہیں کیونکہ امریکہ صہیونی حکومت کی مشروعیت کو تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا حقیقی حل مزاحمت ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت صرف جارحانہ اقدام نہیں بلکہ اس کا مقصد دشمنوں کو فلسطینی عوام کے فیصلے کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔ ریفرنڈم اور مزاحمت فلسطین کے حل کے دو بنیادی ستون ہیں۔
امریکی منصوبہ فلسطینی عوام کے مفاد میں نہیں
لبنان کی مسلم علما کونسل کے سربراہ حسان عبداللہ نے کہا کہ مزاحمت حق اور باطل کے درمیان ایک حقیقی جنگ ہے اور سب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکی حل فلسطینی عوام کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے، اس لیے ریفرنڈم کی تجویز انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امام شہید کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو فلسطین میں ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے اقدامات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں ایسے باشعور افراد شامل ہونے چاہئیں جو میڈیا اور سماجی رابطوں کے ذریعے دنیا بھر میں ریفرنڈم کے پیغام کو عام کر سکیں۔
ایران اکیلا فلسطین میں ریفرنڈم کی ذمہ داری نہیں اٹھاسکتا
لبنان کے اسلامی عمل محاذ کے رابطہ کار شیخ زہیر جعید نے کہا کہ ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے فلسطین کو اپنا بنیادی مسئلہ قرار دیا اور ہمیشہ فلسطین اور مسجد الاقصیٰ کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر اقدام پیش نہیں کیا، جبکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ ریفرنڈم کی تجویز قابل تعریف ہے۔
لبنان کی اسلامی علوی کونسل کے سربراہ شیخ محمود قدور نے کہا کہ فلسطین میں ریفرنڈم کے نفاذ کی بھاری ذمہ داری صرف ایران پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ دیگر ممالک کو بھی ایران کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔
عالم اسلام کے علما فلسطین کی حمایت کریں
ایران کے سابق ثقافتی مشیر عباس خامہ یار نے کہا کہ فلسطین ہمیشہ ایرانی عوام کے ضمیر کا حصہ رہا ہے اور ایران نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسلمان علما کو میدان میں آکر فلسطین کی حمایت کا اعلان کرنا چاہیے کیونکہ ایرانی عوام ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور امید ہے کہ دیگر ممالک کے عوام بھی اس حمایت میں شامل ہوں گے۔
بعض علاقائی ممالک اسرائیل کے خطرے کو نہیں سمجھ سکے
حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ حسن بغدادی نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کا بنیادی مسئلہ ہے اور سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں۔
انہوں نے کہا کہ بعض علاقائی ممالک اب بھی صہیونی حکومت کے خطرات کو نہیں سمجھ سکے، لیکن آج سب پر واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا خطرہ صرف سرحدی ممالک تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے مزاحمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ مزاحمت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، لیکن ایران اور مزاحمتی قوتیں روز بروز مضبوط ہو رہی ہیں۔
یمن کی سب سے بڑی ترجیح فلسطین کی حمایت ہے
یمنی رہنما سید احمد عبدالملک نے کہا کہ یمن میں فلسطین کی بھرپور حمایت سب سے اہم ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کو میڈیا کے میدان میں بھی پابندیوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے مزاحمتی محاذ کی حقیقی آواز دنیا تک نہیں پہنچ سکی۔ یمن میں مشکلات کے باوجود عوام فلسطین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے۔
مسلم حکمران دنیا داری میں مشغول ہیں
مصر کی جامعہ الازہر سے وابستہ عالم شیخ منصور مندور نے کہا کہ آج امت مسلمہ مشکل حالات سے گزر رہی ہے اور بہت سے مسلم حکمران دنیاوی معاملات میں مشغول ہو کر بنیادی ذمہ داریوں کو بھول گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں آزادی کا مطلب صرف خواہشات کا حصول نہیں بلکہ یہ ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ایک دوسرے کے درد کو محسوس کریں اور باہمی اتحاد قائم رکھیں۔
آپ کا تبصرہ